23 نومبر 2012 - 20:30

ڈیرہ اسماعیل خان میں عزاداران امام حسین (ع) پر صہیونی آلہ کار دہشت گردوں کے بم حملے میں 4 بچوں سمیت 8 عزاداران فرزند رسول (ص) شہید ہوئے ہیں جبکہ لکی مروت میں خودکش دھماکے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج تاسوعا کے دن ڈی آئی خان کے بنوں چونگی کے علاقے میں عزاداران سیدالشہداء کے جلوس کے راستے میں صہیونی آلہ کار دہشت گردوں کے رکھا ہوا بم بم دھماکے سے پھٹ گیا جس میں چار بچوں سمیت آٹھ عزادار شہید اور پانچ بچوں سمیت 30 زخمی ہوئے؛ زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ بم دھماکے بعد ڈیرہ اسمعیل خان میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔حکومت پاکستان نے دعوی کیا تھا کہ ملک بھر میں عزاداروں کے تحفظ دینے کے لئے پول پروف انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ صہیونی آلہ کار دہشت گرد ٹولے لشکر جھنگوی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان انتظامات کے باوجود ڈیرہ اسمعیل خان سمیت کئی شہروں میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرے گی اور لشکر جھنگوی نے حملے کردکھائے اور یوں سرکاری دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ادھر صدر پاکسان نے معمول کے مطابق کوئی عملی اقدام کئے بغیر ڈی آئی خان میں ہونے والے دھماکے کی مذمت اور دھماکے سے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کرتے ہوئے اپنے پرانے دعوے اور وعدے دہرائے ہیں اور کہا کہ "حکومت دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچا کر رہے گی!؟"۔وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی معمول کے مطابق ڈی آئی خان بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا سے رپورٹ طلب کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں! اور یوں گویا انھوں نے اپنا فرض منصبی نبھالیا ہے!۔ادھر صہیونی آلہ کار دہشت گرد ٹولے طالبان پاکستان نے خالی خولی نعروں کے شیدائی حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک بار پھر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والے چار بچوں کی عمریں بارہ سے چودہ سال تک ہیں اور پولیس کے مطابق دھماکا خیزمواد کچرے کے ڈھیر میں رکھا گیا تھا جس سے ریموٹ کنڑول بم کے ذریعے اڑایا گیا۔ دھماکے کے بعد سیکورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ڈی آئي خان میں گذشتہ رات بارہ بجے سے سول کرفیو نافذ کیا گیا تھا؛ ہنگو جانے والے راستوں کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ شہر کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے اور موبائل، وائر لیس سروس معطل اور موٹر سائیکل پر پابندی عائد ہے؛ لیکن دھماکہ ہوگیا جو حقیقتا سوالیہ علامت ہے۔ادھر لکی مروت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لکی مروت کے علاقے میں بھی محلہ سیدان میں آٹھ محرم الحرام کے جلوس پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی۔اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور جلوس کے قریب پہنچنا چاہتا تھا لیکن جونہی پولیس چوکی کے قریب پہنچا [شاید خوفزدہ ہوکر] اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے تا ہم عزاداروں کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110